سندھ نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کمیٹیاں تشکیل دے دیں۔


کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں موسلا دھار بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، جمعرات کو اے آر وائی نیوز نے رپورٹ کیا۔

ایک بیان میں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ کمیٹی میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نمائندے ہوں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ضلعی نگران کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ سیلاب نے صوبے بھر میں مزید 17 جانیں لے لی ہیں جس سے صوبائی اموات کی تعداد 724 ہو گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ میں 17 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 48 لاکھ ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہوئیں۔

صوبے میں امدادی امداد کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے سندھ کے فوکل پرسن برائے سیلاب ریلیف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 2,962 ریلیف کیمپ متاثرین کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 0.5 ملین سے زیادہ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ: سندھ میں سیلاب سے 1091 ہیلتھ یونٹس کو 34 ارب روپے کا نقصان پہنچا

ڈویژن وار بریک اپ کے مطابق حیدرآباد میں 296 ریلیف کیمپ، شہید بینظیر آباد میں 579، میر پور خاص میں 50، سکھر میں 269، لاڑکانہ میں 1727، اور کراچی میں 41 ریلیف کیمپ لگائے گئے۔

تبصرے

.



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.