منچھر جھیل کا پانی کم ہو رہا ہے: حکومت نے کٹوتیوں کو ختم کرنے کے لیے سروے شروع کر دیا۔


جامشورو: محکمہ آبپاشی سندھ نے منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں کمی کے باعث کی جانے والی کٹوتیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک سروے شروع کر دیا ہے، ذرائع کے حوالے سے اے آر وائی نیوز نے جمعرات کو رپورٹ کیا۔

دریائے سندھ میں پانی کے اخراج کے بعد جھیل میں سیلابی پانی کی سطح مزید گر گئی ہے۔ منچھر میں پانی کی سطح RL 120 تک گر گئی ہے جب کہ ذرائع کے مطابق جھیل کی گنجائش کی سطح RL 123 ہو گئی ہے۔

منگل کو محکمہ آبپاشی سندھ نے کہا کہ منچھر جھیل سے روزانہ 1.5 لاکھ کیوسک پانی دریائے سندھ میں چھوڑا جا رہا ہے۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح نیچے جانے کے بعد مختلف علاقوں میں سیلابی پانی بھی کم ہو رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جھنگاڑہ اور بجاڑہ یونین کونسل میں کھڑا پانی بھی کم ہوگیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تلتی اور بھنبھہ یونین کونسلوں میں سیلابی پانی گر گیا ہے اور لنک روڈ بحال ہو گئے ہیں۔

آبپاشی ذرائع نے بتایا کہ یوسی شیخ کے دیہات میں پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے جبکہ پانچ یونین کونسلیں تاحال پانی سے بھری ہوئی ہیں۔

سندھ کے دادو اور جامشورو اضلاع میں پھیلی منچھر جھیل پاکستان میں میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع سندھ کے اضلاع میں سیلاب کے مرکز میں ہے۔

کھیرتھر رینج سے آنے والے سیلاب کے پانی نے علاقے کو غرق کر کے ایک بہت بڑی جھیل میں تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ دریا میں طغیانی کی وجہ سے اسے دریائے سندھ میں داخل ہونے کا راستہ نہیں مل سکا۔

تبصرے

.



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.